نئی دہلی،06/اگست (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) لوک سبھا میں دفعہ 370 کے ہٹائے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے لوک سبھا میں کانگریس کے لیڈر بے ادھیررنجن چودھری اس حد تک آگے نکل گئے کہ خود سونیا گاندھی بے چین نظر آنے لگیں۔ادھیر رنجن چودھری نے وزیر داخلہ سے یہ سوال پوچھ لیا کہ جس کشمیر کو لے کر شملہ معاہدہ اور لاہور ڈکلیریشن ہوا ہے اور جس کشمیر کو لے کر وزیر خارجہ ایس جے شنکرنے امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پامپیو کو کہا ہے کہ کشمیر دوطرفہ معاملہ ہے تو ایسے میں یہ یک طرفہ کیسے ہو گیا۔آپ نے ابھی کہا کہ کشمیر اندرونی معاملہ ہے، لیکن یہاں اب بھی اقوام متحدہ 1948 سے نگرانی کرتا آ رہا ہے۔یہ ہمارا اندرونی معاملہ کیسے ہو گیا؟ انہوں نے کہا کہ حکومت 1994 میں پاس ہوئی تجویزکہ پورا جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اس پر اپنا رخ صاف کرے۔انہوں نے کہا حکومت نے تمام قوانین کی خلاف ورزی کر کے دو مرکز کے زیر انتظام صوبہ بنا دیئے ہیں۔ان کے اس بیان پر بینچ نے کانگریس کو بری طرح روندا اور خود وزیر داخلہ امت شاہ نے پوچھا کیا آپ کہتے ہیں قوانین کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ امت شاہ نے پوچھاکہ کیا آپ نہیں مانتے ہیں کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ نہیں ہے۔آپ کیا بول رہے ہیں؟ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔میں جب بھی جموں و کشمیر کہتا ہوں کہ تو پی او کے بھی اس میں ہوتا ہے۔مجھے غصہ آ رہا ہے کہ آپ نہیں سوچتے ہیں کہ جموں و کشمیر کے تحت پی او کے (پاکستان کے قبضے والا کشمیر) بھی آتا ہے۔ہم اس کے لئے جان بھی دے سکتے ہیں۔میں آپ کو بتا دوں کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔اس میں کوئی شک نہیں ہے اور اس پر قانونی تنازعہ بھی نہیں ہے۔ امت شاہ کے اس بیان کے بعد بینچ کے ارکان نے ’بھارت ماتا کی جے‘ اور وندے ماترم کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔کانگریس پارٹی کے اندر پہلے سے ہی اس مسئلے پر ایک سر میں آواز باہر نہیں آ رہی ہے۔کل بھونیشور کلتا نے استعفی دیتے ہوئے یہ کہہ دیا کہ اس معاملے پر وہ مختلف رائے رکھتے ہیں۔اس کے بعد دپندرہڈا اور رائے بریلی میں کانگریس کی لیڈر اور ممبر اسمبلی آدتیہ سنگھ اور کانگریس کے پرانے سپہ سالار جناردن درویدی نے دفعہ 370 ہٹانے کے حق میں بیان دیئے ہیں۔جبکہ غلام نبی آزاد نے راجیہ سبھا میں اس کو نہ صرف غیر آئینی بتایا ہے بلکہ اسے کشمیر اور ہندوستان کے درمیان کا پل ٹوٹنے جیسا بھی بتایا ہے۔آج جب ان سے پوچھا گیا کہ کانگریس پارٹی کے اندر سے دو طرح کی آوازیں کیوں آ رہی ہیں تو انہوں نے صاف طور پر کہا کہ جن لوگوں کو کشمیر اور کانگریس کی تاریخ نہیں معلوم ہے ان سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔وہ لوگ پہلے کشمیر اور کانگریس کی تاریخ پڑھیں۔اس دوران راہل گاندھی نے بھی ٹویٹ کر کے کانگریس کی رائے کو صاف کرنے کی کوشش کی انہوں نے لکھا کہ یہ آئینی طریقہ کار کی خلاف ورزی ہے جموں و کشمیر اسمبلی کو اعتماد میں لئے بغیر اور وہاں کے لیڈروں کو قید کرکے لیا گیا فیصلہ ہے۔انہوں نے یہ بتانے کی کوشش کی کہ یہ کس طرح حکومت صرف زمین کے ٹکڑوں کو اہمیت دے رہی ہے وہاں کے لوگوں کی روح کو نہیں آخر میں انہوں نے یہ بھی لکھا کہ کس طرح سے پاور کا غلط استعمال یہ حکومت کر رہی ہے۔